ارطغرل مصور کی نظر میں زیرنظر ناول ”٭ارطغرل کی کہانی کا تانا بانا، ترکش ڈراما سیریل ””ڈریلس ارطغرل“ کے انگریزی مینیو اسکرپٹ سے اخذ کیا گیا ہے۔ متعدد ممالک نے مذکورہ ڈرامے کا اسکرپٹ اپنی قومی زبانوں میں ترجمہ کرکے ناظرین کے لیے پیش کیاء جسے بھرپور پذیرائی ملی۔ اسی دلچسپی کو مدِنظر رکھتے ہوئے اخبار جہاں نے اپنے قارئین کے لیے اس ڈرامے کو پہلی بار اردو ناول کی شکل میں قلمبند کرایا ہے۔ ناول میں ٭'ڈریلس ارطغرل“ کے علاوہ دیگر مستند ذرائع اور کتب سے بھی استفادہ کیا گیا ہے۔ امید ہے سلطنت عثمانیہ کے نشیب و فراز کی یہ طویل داستان پڑھنے والوں کو پسند آئے گی۔ ویران پہاڑی سلسلے کے درمیان سپاٹ میدانی قطعے میں دور دور تک سفید خیمے پھیلے ہوئے تھے۔ ترک خانہ بدوشوں کے قائی قبیلے کے لوگ اس پہاڑی دامن میں خیمہ زن تھے۔ دور سے دیکھنے میں شاید یہ پڑاؤ کسی کو دکھائی نہ دیتا مگرجیسے بادلوں کی اوٹ سے چاند نکلے تو سب کو دکھائی دے جاتا ہے ایسے ہی پہاڑی آوٹ سے نکلتے ہی کوئی دوہزار خیموں پر مشتمل یہ چھوٹا سا شہر باآسانی نظر آجاتا تھا۔ ویسے کسی کو احساس بھی نہ تھا کہ اس ویرانے میں ایک چھوٹا سا عارضی شہر آباد ہے...
Comments
Post a Comment