دریلس ارطغرل قسط اول (پہلا حصہ)
![]() |
| ارطغرل مصور کی نظر میں |
زیرنظر ناول ”٭ارطغرل کی کہانی کا تانا بانا،
ترکش ڈراما سیریل ””ڈریلس ارطغرل“ کے
انگریزی مینیو اسکرپٹ سے اخذ کیا گیا ہے۔
متعدد ممالک نے مذکورہ ڈرامے کا اسکرپٹ
اپنی قومی زبانوں میں ترجمہ کرکے ناظرین
کے لیے پیش کیاء جسے بھرپور پذیرائی ملی۔
اسی دلچسپی کو مدِنظر رکھتے ہوئے اخبار
جہاں نے اپنے قارئین کے لیے اس ڈرامے کو
پہلی بار اردو ناول کی شکل میں قلمبند کرایا
ہے۔ ناول میں ٭'ڈریلس ارطغرل“ کے علاوہ
دیگر مستند ذرائع اور کتب سے بھی استفادہ کیا
گیا ہے۔ امید ہے سلطنت عثمانیہ کے نشیب و
فراز کی یہ طویل داستان پڑھنے والوں کو پسند
آئے گی۔
ویران پہاڑی سلسلے کے درمیان سپاٹ میدانی
قطعے میں دور دور تک سفید خیمے پھیلے
ہوئے تھے۔ ترک خانہ بدوشوں کے قائی قبیلے
کے لوگ اس پہاڑی دامن میں خیمہ زن تھے۔
دور سے دیکھنے میں شاید یہ پڑاؤ کسی کو
دکھائی نہ دیتا مگرجیسے بادلوں کی اوٹ سے
چاند نکلے تو سب کو دکھائی دے جاتا ہے
ایسے ہی پہاڑی آوٹ سے نکلتے ہی کوئی
دوہزار خیموں پر مشتمل یہ چھوٹا سا شہر
باآسانی نظر آجاتا تھا۔
ویسے کسی کو احساس بھی نہ تھا کہ اس
ویرانے میں ایک چھوٹا سا عارضی شہر آباد
ہے اور ان دوہزار خیموں میں کئی ہزار لوگ
مقیم ہیں۔ ترک خانہ بدوش قائی قبائل کا یہ پڑاؤ
بھی عارضی تھا۔ جلد ہی اس پورے قبیلے کو
یہاں سے کوچ کرکے کسی اور مقام پر پڑاؤ
ڈالنا تھا کیوں کہ وہ کسی ایک جگہ؛ ایک مقام
کو اپنا مستقل ٹھکانا نہیں بناتے تھے اپنی
جگہیں بدلتے رہتے تھے اور آگے ہی آگے
بڑھتے رہتے تھے۔ ویسے بھی یہاں اب قحط
کی صورت حال تھی۔ ایسے میں سردیوں کا
موسم بھی شروع ہونے والا تھا۔ قحط کی وجہ
سے آن کے جانور مرنا شروع ہوگئے تھے لہٰذا
اب ضروری ہوگیا تھا کہ وہ جلد سے جلد یہاں
سے کوچ کرکے کسی اور زمین پر چلے جائیں
جہاں خوراک ہو قحط نہ ہو کھیتی ہو موسم
کی سختیاں نہ ہوں۔
اُن کی اگلی منزل کہاں تھی... یہاں سے اُٹھ کر
کن زمینوں پہ اُنہیں ڈیرے ڈالنے تھے یہ کسی
کے علم میں نہیں تھا۔
یہ ان دنوں کا قصہ ہے جب سردیاں شروع
ہونے والی تھیں اور موسم اپنی شدت میں اضافہ
کرنے کو پُرتول رہا تھا۔ خیموں کے وسط میں
نصب ایک بڑے خیمے میں موجود لوہار کی
بھٹی کے سامنے بچے کھیل رہے تھے اور
عورتیں اپنے کاموں میں مگن تھیں۔ یہ خیمہ
لوہار تمیر کا تھا۔ وہ جگت چچا ذمیر کے نام
سے مشہور تھے۔ چچا ذمیر کے خیمے اور
بھٹی کے سامنےء قبیلے کے چار پانچ نوجوان
اپنے گھوڑوں کے ساتھ اِدھر سے اُدھر حرکت
کرتے دکھائی دے رہے تھے۔ صاف محسوس
ہو رہا تھا کہ وہ کہیں جانے کی تیاریوں میں
مصروف ہیں اور اپنی مہم کے سلسلے میں بہت
پُرجوش ہیں۔
سب ہی کی تلواریں اُن کی کمروں سے بندھی
ہوئی تھیں۔ ذاتی اسلحہ کی موجودگی سے صاف
محسوس ہورہا تھا کہ یہ نوجوان کوئی عام خانہ
بدوش نہیں ہیں۔ تلوار اُن کا زیور ہے اور شاید
لڑنا اُن کی سرشت میں شامل ہے۔
خیمے میں بوڑھے اور قدرے جسیم چچا ذمیر
ایک خام تلوار کو بھٹی میں دہکا چکے تھے۔
انہوں نے دہکتے ہوئے لوہے کو بھٹی سے
نکال کر کاٹھی پر رکھا اور چھوٹے ہتھوڑے
سے تلوار کا گھماؤ بنانے لگے۔ ان کے سامنے
کوئی سوا چھ فٹ کا نوجوان کھڑا تھا، جو اپنے
حلیے؛ لباس اور پہلو میں لٹکی ہوئی تلوار سے
جنگجو تو محسوس ہوتا تھاء، لوہار دیکھائی نہیں
دیتا تھا۔
وہ بھی چچا ذمیر کے ساتھ اپنے ہاتھ میں
موجود ایک بڑے ہتھوڑے کو اُس گرم لوہے پر
مارنے لگا۔
لوہا گرم ہوجائے تو نرم ہو جاتا ہے۔ گرم ہونے
والا فولاد آسانی سے اپنی مرضی سے کسی
بھی حالت میں ڈھالا جاسکتا ہے۔ وہ دونوں بھی
گرم لوہے کو اپنی مرضی سے ایک مخصوص
شکل دے رہے تھے۔
چچا ذمیر نے چھوٹا ہتھوڑا لوہے پر مارا اور
عادت کے مطابق چلا کر کہا۔ ”اللہ ایک ہے
چچا ذمیر لوہے پر چوٹ مارتے ہوئے اسی قسم
کے فقرے ادا کرتے تھے۔ نوجوان نے ان کی
چوٹ کے بعد اپنے بڑے ہتھوڑے کی چوٹ
مارتے ہوئے جواب میں کہا۔ ” اللہ عظیم ہے۔““
دونوں نے ایک دوسرے کو مسکرا کر دیکھا
اور پھر وہ دونوں باری باری اپنی ہتھوڑژوں
سے لوہے پر چوٹ مارتے ہوئے ساتھ ساتھ
”الله ایک ہے۔ اللہ عظیم ہے۔ اللہ غالب ہے“
کے نعرے لگاتے رہے۔
اُن کے چہروں پر جوش اور لہجے میں فخر
تھا۔ وہ گرم لوہے کو چوٹیں مار کر اس کی
ہیئت بدل رہے تھے۔ خام لوہے کو ہتھیار میں
بدل رہے تھے۔ یوں محسوس ہو رہا تھا کہ وہ
تلوار نہیں بنا رہے؛ اپنے جوش کو زندہ کر
رہے تھے۔ ہر چوٹ کے ساتھ اللہ کی کبریائی
اور عظمت کا اعلان کر رہے تھے کیوں کہ وہ
جانتے تھے کہ وہ اللہ ہی ہے جس نے لوہے کو
ان کے لیے مسخر کیا ہے۔ وہ اللہ ہی ہے جس
نے لوہے سے ئلوار بنانا سکھایا ... وہ اللہ ہی
ہے جس نے انہیں وہ طاقت دی کہ وہ لوہے کو
نرم کرکے اپنے لیے ہتھیار بنالینے پر قادر
ہوئے تھے۔ ہتھوڑے کی ہر چوٹ کے ساتھ لوہا
اپنی شکل تبدیل کرتا جا رہا تھا اور پھر جلد ہی
شاید وہ اس سطح پہ پہنچ گیا کہ بوڑھے لوہار
نے ہتھوڑا چلانا بند کردیا۔
نوجوان بھی اپنی پھولی ہوئی سانسوں پر قابو
پاتے ہوئے گہرے گہرے سانس لینے لگا اور
اپنی روشن آنکھوں سے بوڑھے کی طرف
دیکھنے لگا جو اس سے عمر میں دوگنا تھا
مگر اس کی سانس ابھی اتنی منتشر نہیں ہوئی
تھی جتنی کہ اس کی اپنی سانس پھول گئی تھی۔
بوڑھے لوہار نے اطمینان سے سنسی میں پکڑا
ہوا وہ خم دار لوہا اٹھایا اور قریب رکھے پانی
کے برتن میں ڈال دیا۔ چھن کی ایک تیز آواز
پیدا ہوئی اور لوہے کے اس ٹکڑے کو آب مل
گئی جو اگلے مرحلے میں تلوار کی شکل میں
ڈھلنے والا تھا۔
نوجوان نے چچا ذمیر کی طرف دیکھتے ہوئے
مسکرا کر کہا۔ ٭٭چچا دمیر! فولاد بھی الله کے
نام کے سامنے اپنی سختی بھول جاتا ہے
...کتنی آسانی سے نرم ہوکر گھوم جاتا ہے۔“
چچا دَمیر نے مسکرا کر کہا۔ ””اللہ کے نام کی
تاثیر میں ایک خوبی یہ بھی ہے کہ اس کا نام ہر
سختی کو نرم کر دیتا ہے۔“
(جاری ہے)

Comments
Post a Comment